22 جون 2011 - 14:59

معروف امریکی محقق نوآم چامسکی نے کہا ہے کہ جدید ترین سروے رپورٹس کے مطابق مشرق وسطی کے عوام ایران کے ایٹمی طاقت بن جانے کو خطے میں پائیدار امن کی ضمانت سمجھتے ہیں۔

ابنا: فارس نیوز ایجنسی کے مطابق معروف امریکی اسکالر اور تجزیہ نگار نوآم چامسکی نے کہا ہے کہ مشرق وسطی کے عوام ایران کو ایٹمی طاقت کے طور پر دیکھنا چاہتے ہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ اس طرح خطے میں پائیدار امن کی ضمانت فراہم ہو سکتی ہے۔
انھوں نے نیویارک میں آزاد میڈیا سے متعلق ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ اور مغربی قوتیں ہرگز نہیں چاہتیں کہ عرب ممالک میں جمہوریت برقرار ہو کیونکہ اس کے نتیجے میں وہاں ایران کی حامی حکومتیں برسراقتدار آجائیں گی اور اس کا سبب یہ ہے مشرق وسطی کے عوام کی اکثریت امریکہ اور مغربی ممالک کو اپنی آزادی، جمہوریت اور قومی مفادات کا اصلی دشمن سمجھتے ہیں۔
نوآم چامسکی نے کہا کہ مشرق وسطی اور عرب ممالک میں عوامی اکثریت اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ ایٹمی ہتھیاروں سے لیس طاقتور ایران خطے کے امن و سلامتی کے لئے ضروری ہے۔
انھوں نے کہا کہ صرف مصر میں تقریباً 80 فیصد عوام کی یہی رائے ہے۔
چامسکی نے کہا کہ مشرق وسطی کے صرف 10 فیصد عوام ایران کو اپنا دشمن تصور کرتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ امریکہ اور مغربی ممالک نہیں چاہتے کہ ان ممالک میں آزادی اور جمہوریت برقرار ہو جائے؛ اگر ان ممالک میں حقیقی جمہوریت برقرار ہو جائے تو کوئی حکومت امریکہ کے قابو میں نہیں رہے گی۔
نوآم چامسکی نے ویکی لیکس کی جانب سے عرب ممالک اور ایران سے متعلق رپورٹوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ویکی لیکس نے ایک ایسی رپورٹ شائع کی ہے جس کے مطابق عرب ممالک اور مشرق وسطی کے عوام ایران کے خلاف امریکی پالیسیوں کے حامی اور ایران کے مخالف ظاہر کئے گئے ہیں، جبکہ میں یہ کہنا چاہوں گا کہ ان کی مراد صرف مشرق وسطی کے عرب ڈکٹیٹرز ہیں، وکی لیکس میں عرب ڈکٹیٹرز کا تذکرہ کیا جانا چاہئے تھا، نہ کہ عرب عوام کا۔
امریکہ اپنے مفادات کی خاطر بحرین میں ہونے والے ظلم و ستم پر خاموش:
نوآم چامسکی نے کہا کہ بحرین دو وجوہات کی بنا پر انتہائی اہم ملک ہے؛ اول یہ کہ بحرین امریکی نیوی کے پانچویں بیڑے کا گھر تصور کیا جاتا ہے، اور دوئم یہ کہ وہاں کی 70 فیصد آبادی شیعہ مسلمانوں پر مشتمل ہے۔
انھوں نے کہا کہ بحرین سعودی عرب کے مشرق میں واقع ایسا ملک ہے جو تیل کی سپلائی کیلئے ہائی وے کی حیثیت رکھتا ہے اور 1940 سے لے کر اب تک مغربی ممالک کی جانب سپلائی کئے جانے والے تیل کی سب سے زیادہ مقدار اسی راستے بھیجی گئی ہے۔
چامسکی نے کہا کہ [سعودی عرب کے] تیل کے زیادہ تر ذخائر شیعہ اکثریتی علاقوں میں واقع ہیں اور اسی وجہ سے بحرینی عوام کی جانب سے آزادی، خودمختاری اور جمہوریت کے مطالبے نے امریکہ اور اسکے اتحادیوں کے طوطے اڑا دیئے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ جیسے ہی بحرینی عوام نے اپنی انقلابی مہم کا آغاز کیا سعودی عرب کی فوج نے اس ملک پر جارحیت کر دی اور بحرینی سیکورٹی فورسز کے ساتھ مل کر عوامی تحریک کو کچلنا شروع کر دیا؛ ہر روز عام شہریوں کی گرفتاری اور ان پر تشدد کی خبریں موصول ہو رہی ہیں۔ سیکورٹی فورسز نے اسپتالوں پر حملے کئے، ڈاکٹرز اور بیماروں کو مارا پیٹا اور انہیں اسپتال سے نکال باہر پھینکا، بحرینی عوام انتہائی افسوسناک صورت حال سے دوچار ہیں۔
نوآم چامسکی نے کہا کہ یہ تمام ظالمانہ اقدامات ایسے ڈکٹیٹرز کے ہاتھوں انجام پارہے ہیں جو امریکہ کے قریبی دوست ہیں، امریکہ ہر ایسے عمل کو اچھا ثابت کر دیتا ہے جو اس کے معاشی اور اسٹریٹجک (تزویری) مقاصد کیلئے مفید ہو۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

/110

- بحرین کی سفاک حکومت کویونسکو اجلاس کی صدارت سونپےclickجانےپراحتجاج/ آپ بھی احتجاج ریکارڈ کرائیں

-

اہم: اس پٹیشن کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے 10 لاکھ ووٹوں کی ضرورت ہے مگر کیا کیا جائے کہ ابھی تک چالیس ہزار افراد نے بھی ووٹ نہیں دیا۔ فارورڈ کریں امام زمانہ (عج) کے صدقے۔ پلیز 

   بحرین میں مظالم روکنے کےلئےCLICK صرف دس لاکھ ووٹوں کی ضرورت